ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

گھر میں لیمن گراس اگائیے۔۔ غذا بھی، دوا بھی،شفا بھی

 یہ ایک خوبصورت پودا ہے جسے آپ آسانی اپنے گھریلو باغیچہ یا گملہ میں لگا سکتے ہیں اور سالہا سال اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں،جھاڑی نما اس پودے کا اصل وطن چین اور اس کے گردو نواح کے ممالک ہیں بحرحل اب پاکستان کی ہر نرسری سے آسانی سے دستیاب ہے اور اگر آپ اس کے فوائد سے آگاہ ہو جائیں تو اس کو ہر حال میں خریدنا چاہیں گے مگر اللہ کا شکر ہے کہ یہ ہمارے" مطلوبہ میعار" پر بھی پورا اترتا ہے یعنی انتہائی سستا  ۔میرا خیال ہے گملہ میں لگا ایک فٹ سے بڑا پودا آپ کو سو روپے سے بھی کم میں مل جائے گا،بعد میں بھی اس کی دیکھ بال انتہائی آسان ہے ،عام پودوں کی ہی طرح اس کو پانی دیا جاسکتا ہے اور اہم اور بڑی بات یہ ہے اس کی خوشبو سے مچھر بھی قریب نہیں آتے۔

 طبی نقطہ نظر سے لیمن گراس کے بے شمار فائدے سامنے آ رہے ہیں۔ سرطان جیسے مرض میں بھی مفید ہے۔ آپ بھی اسے آزمائیے۔ چاولوں میں ڈال کر دیکھیے۔ اس کی چائے بنا کر خود بھی پئیں اور گھر والوں کو بھی دیں۔ دو تین چھوٹی الائچیاں ڈال کر پانی پکائیں،لیمن گراس ڈالیں اور پھر چینی ڈال کر پئیں تو آپ خود حیران ہوں گی۔ جسم کی تھکن دور ہو جائے گی، کھانا ہضم ہوگا۔ منہ میں اس کا ذائقہ کافی دیر تک رہے گا۔لیمن گراس کا قہوہ چڑچڑاپن ، دماغ پر بوجھ، تنائو، پریشانی دور کرتا ہے۔ پیٹ سے گیس کم کرنے اور مزید آنتوں  میں گیس کی تشکیل کو روکنے کے لئے مدد کرتا ہے۔
 ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کیلئے لیمن گراس کا جوس استعمال کیاجاتا ہے۔کیل مہاسوں کوکم کرنے میں ایک ریفریشر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے جوس سے دوران خون حیض کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے ،جسم کی بدبو  مختلف بیماریوں کے علاج میں مدد کر سکتے ہیں اورگرمی کو کم کرنے میں مفید ہے، جوس پیشاب کی نالی میں انفیکشن اور زخموں کے علاج میں مفید ہے،ہمارے جسم کے دیگر اعضا کو صاف اور زہریلا مادہ کو ختم کر سکتے ہیں۔خواتین کی صحت جلداورجسم کی  بدبو جیسی بیماریوں کے علاج میں مدد ملتی ہے،چہرے کے کیل مہاسے ختم ہوجاتے ہیں چہرہ خوبصورت شاداب ہوجا تا ہے۔
 لیمن گراس کا تیل گرم اثر دینے کے لئے پورے جسم میں مساج کیا جاسکتا ہے، اس کاتیل جوڑوں کا درد اور پٹھوں کے درد کودور کرنے میں مدد کر سکتے ہیںجوڑوں کے درد اور پٹھوں تکلیف سے  درد میں مدد ملتی ہیسوزش اور درد اور تکلیف کم ہو جاتی ہے
لیمن گراس کی چائے پینے سے حیض درد اور متلی کم کرنے میں  مدد ملتی ہے۔لیمن گراس عام طور پر باورچی خانے میں مچھروں سے چھٹکارا حاصل کرنیکاخوشبودار پودا ہے،لیمن گراس عام طور پر مصالحہ کے طور کھانوں میں استعمال کرنے کا ایک خوشبودار پودا ہے
لیمن گراس کے پتے  میں خاص مہک ہوتی ہے  آپ اس کی چائے بنا  سکتے ہیں۔ ایک چمچہ بھر پتے ابلتے پانی میں ڈال کر دم بھی دے سکتے ہیں۔لیمن گراس کا سوپ بھی  بنایا جا سکتا ہے۔ یخنی بناتے وقت چند پتے ڈالنے سے مزا دوچند ہو جاتا ہے
  لیمن گراس کے پتے کھایئے تھکن ہومعدے کی خرابی ہو تو اس کی چائے بنا کر پیجئے طبیعت صحیح ہو جائے گی اس میں چینی کے بجائے شہد ملا کر پینے سے فلو بخار میں فائدہ ہوتا ہے کھانسی کم ہو جاتی ہے۔ چاولوں کو دم دیتے وقت لیمن گراس کے پانچ چھ پتے ڈالنے سے جب ڈھکنا ہٹتا ہے تو خوشبو پھیل جاتی ہے
مزید معلومات کے لئے  آپ طارق تنویر کا فیس بک پیج وزٹ کر سکتے ہی

اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر

اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر بھی کیا جاسکتا ہے ،پھل اورسبزیوں کا روزمرہ استعمال نہ صرف جسمانی طور پر تندرست رکھتا ہے بلکہ بہت زیادہ پھل اور سبزی کھانے سے دماغ بھی آسودہ اور مطمئن رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زیادہ پھل اورسبزیاں کھانے والے لوگ مستقبل کےحوالے سے زیادہ پر امید ہوتے ہیں۔

محقیقین کو ان کےخون میں ایک نامیاتی مرکب کیروٹینائڈ کی بلند سطح ملی ہے۔کیروٹینائڈ کو عام طور پر'بیٹاکیروٹین' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک سرخی مائل گندھکی رنگ دارمرکب ہے جو نارنجی پھلوں اور سبز پتے دارسبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ نامیاتی مرکب جسم میں ایک طاقتوراینٹی آکسیڈنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ انسان کو افسردگی یا ذہنی دباؤ کی کیفیت میں آرام پہنچانے کے کام آتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹ خلیات ،ڈی این اے اور پروٹین کے ڈھانچے کو فری ریڈیکل کے نقصانات سے بچانے میں مدد دیتے ہے اور جسم کے لیے دائمی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیقی  سروے میں ایک ہزار مرد اور عورتوں کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 25 سے 74 برس کے درمیان تھیں ۔ محققین نے شرکا کے خون کے نمونوں میں موجود نو مختلف اینٹی آکسیڈنٹ جن میں بیٹا کیروٹین سمیت وٹامن ای کی سطح کی جانچ پڑتال کی۔ تحقیق میں شامل شرکاء نے اپنی طرز زندگی سے متعلق ایک سوالنامہ بھرا اور محققین کو خون کے نمونے بھی فراہم کئے۔ نتیجےمیں پتا چلا کہ جو شرکا دن بھرمیں دو یا اس سے کم پھل اورسبزیاں کھاتے تھے وہ نمایاں طور پرنا امید اور یاسیت کا شکار نظر آئے اسی طرح زیادہ پھل اور سبزیوں کا استعمال کرنے والوں کے خون میں کیروٹینائڈ کی مقدار 13 فیصد زیادہ پائی گئی ان لوگوں کے مقابلےمیں جو یاسیت کا شکار تھے۔ سائیکوسمیٹک میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق کا نتیجہ کیروٹینائڈ اور پرامیدی کے درمیان پائے جانے والے باہمی رشتہ کی بہت معمولی سی وضاحت پیش کرتا ہے۔ گذشتہ برس برطانیہ کی وارک یونیورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی تھی جس میں محققین نے کہا تھا کہ  جو لوگ دن میں سات پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں وہ زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔ برطانیہ میں محکمہ صحت ہرسال فائیو آ ڈے  کی اشتہاری مہم پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کرتا ہے جبکہ فرانس میں لوگوں کو دن بھرمیں دس پھل اور سبزیاں کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے اسی طرح کینیڈا میں پانچ سے دس اور جاپان میں ایک روز میں تیرہ سبزیاں اور چارپھل کھانے کے لیے لوگوں کو حکومتی سطح پرآمادہ کیا جاتا ہےکیونکہ سائنسدانوں نے ہری سبزیوں اور نارنجی رنگ کے پھلوں کو نسخے کے طور پر تجویز کیا ہے۔


 (اس مضمون کی تیاری میں متعدد تحقیقاتی مضامین سے مدد لی گئی ہے)

منگل، 24 ستمبر، 2013

ٹیسٹ تحریر ۔۔۔۔۔ پاکستان میں زلزلہ

کراچی…پاکستان کے جنوبی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں،جس کے نتیجہ میں2افراد جاں بحق ہو گئے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 ریکارڈ کی گئی۔ شام 4 بج کر29 منٹ پر محسوس کئے جانے والے زلزلے کے جھٹکوں کا مرکز زیر زمین 23کلو میٹر گہرائی میں بلوچستان کے علاقے دالبندین سے145 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔زلزلے سے خوفزدہ لوگ ورد کرتے ہو ئے دفاتر اور گھروں سے باہر آگئے۔ جن علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ان میں کراچی،حیدر آباد ،لاڑکانہ ،سکھر،نواب شاہ، ٹھٹھہ، خیرپور ، ٹنڈو محمد خان،پڈعیدن،ہنگورجہ، رسول آبادجبکہ بلوچستان کے علاقے تربت ،گوادر ،کوئٹہ ،سبی ،دالبندین،مستونگ،قلات،سوراب،پنجگور،جعفر آباد اور نصیر آبادخضداراوراس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں ۔ امریکی جیو لوجکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.8 تھی، جبکہ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی آئے جس کی شدت 5.9تھی ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آواران کے مطابق آواران کے علاقے لباج میں زلزلے کے جھٹکوں سے کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور متعدد مکانات منہدم ہو گئے ہیں، منہدم مکانات سے2افراد کی لاشیں او ر 8زخمیوں کو نکال کر طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے،علاقے میں امدادی کاروئیاں جا ری ہیں۔ آواران میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

Labels

موضوعات

بلاگ کا کھوجی